
اب اگر آپ نارتو نہیں دیکھتے تو پھر آپکو آجکے مراسلے کی کوئی سمجھ نہیں آئے گی ۔۔۔۔
بھلا اچی ہا قبیلے سے پیاری آنکھیں اور کس قبائیلی کی ہو سکتی ہیں ۔۔ کوئی نادان جو ایک بار ان آنکھوں میں جھانکنے کی غلطی کر لے، تو ان کے دھوکے میں ایسا گرفتار ہو کہ جان دیتے ہی بنے ۔ ہاں جی، آئے تھے بہت لوگ آئے، بڑے بڑے طرم خاں آئے، مگر کسی سے ان آنکھوں کے طلسم کا توڑ نہ ہو سکا۔
حسن جس کے پاس ہو، غرور تو آہی جاتا ہے۔ اسی طرح اچی ہا قبیلے کے شنوبی، پوری دنیا میں سب سے مغرور قوم میں شمار ہوتے ہیں۔۔ اور ان کا غرور ایسا بے جا بھی نہیں، کیا ڈڈو مینڈک ،کیا شیش ناگ ۔ دنیا جن سے ڈرتی تھی ، اچی ہا قوم کا ایک کل کا بچہ آتا ہے ایک نظر مارتا ہے اور سارے ڈھیر ہو جاتے ہیں ۔
اچی ہا قبیلے کی ان شہرہ آفاق آنکھوں کو شارنگن کہتے ہیں ۔ شارنگن کی اصل طاقت اپنے مد مقابل کے دماغ پر قابو پانے اور اسکی پانچوں حسیات پر قابو پالینے میں مضمر ہے۔ پھر آپکا شکار صرف وہی دیکھتا ہے جو آپ اسے دکھانا چاہتے ہیں ، وہی محسوس کرتا ہے جو آپ اسے محسوس کروانا چاہتے ہیں، درد، غم ، خوف ۔۔ جو بھی۔ غرض کہ آپکا شکار دھوکے اور سراب کی ایک دنیا میں مقید ہے جس کے زمان و مکان پر آپکو مکمل آختیار ہے۔ اگرچہ وقت پر مکمل اختیار زبردست قابلیت مانگتا ہے جو ابھی تک اچی ہا جیسے زیریک قبیلے میں بھی صرف معدودے چند کو ہی نصیب ہوئی ہے۔
مگر شارنگن کی طاقت صرف سراب نمائی تک محدود نہیں۔ یہ آنکھیں کسی چیز کو حرکت کرتے دیکھتی ہیں تو اس حرکت پزیر جسم کی منزل ان پر آشکارا ہو جاتی ہے۔ کہ یہ کوا اس سمت میں اس رفتار سے جا رہا ہے ،تو وہ اندازہ کر لیں گے کہ اتنے سیکنڈ بعد کوا کہاں موجود ہو گا ۔ اسلیے اچی ہا کا نشانہ کبھی چوک نہیں جاتا۔ اور کوئی جتنا بھی تیز ہو ان کی نظر سے بچ کر نہیں جا سکتا ۔ ہاں اگر کوئی غیر معمولی طور پر تیز ہے یا روشنی کی رفتار سے سفر کر رہا ہے تو وہ بہرحال شارنگن کی پہینچ سے مستثنی ہے۔
ایک اور بات جو شارنگن کو عام آنکھوں سے ممتاز کرتی ہے وہ یہ ہے کہ ہم عام طور پر جو بھی دیکھتے ہیں اسکو ہمارا ذہن غیر ضروری معلومات کے خانے میں ڈال دیتا ہے اور چند چیدہ چیدہ مناظر کے علاوہ ہم کچھ یاد نہیں رکھتے سوائے اسکے جو ہم شعوری طور پر یاد رکھنا چاہیں۔ مگر یہ جو اچی ہا ہیں ، انکی آنکھوں کی تاریں سیدھی دماغ کے یاداشت والے خانے میں کھلتی ہیں اور یہ جو کچھ بھی ایک بار دیکھ لیتے ہیں ، پھر کبھی نہیں بھولتے ۔ یہ انکی اسی
فوٹو گرافک میموری کا کمال ہے کہ آچی ہا قبیلے پر بننے والی حرکی تصاویر میں آپکو آچی ہا قبیلے میں کہیں بھی کویی شعبدہ باز نظر نہیں آتا کیونکہ ان کی تیز نظروں کے آگے ہاتھ کی سفائی تو چھپے گی نہیں ، اور انکی یاداشت ایسی تیز کہ جو کرتب ایک بار دیکھ لیا وہ ایک لمحے بعد انکو ازبر بھی ہو گیا ۔ اب یہ خود بھی وہی شعبدہ کر کے آپکو دکھا بھی دے گا، تو ایسے قبیلے میں بھلا کسی شعبدہ باز کی کیسے چلے گی ۔
تو دیکھ لیا آپ نے اچی ہا دا ہونتو نو چکارا۔۔ یعنی اچی ہا کی اصلی طاقت ۔ لیکن اس خوفناک طاقت کے باوجود سارے کا سارا اچی ہا قبیلہ اپنے ہی ایک نوجوان کے ہاتھوں ذبح ہو گیا۔ یعنی میں سیر کر کے آیا شام کو باغ سے، اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے۔ تت تت تت ۔۔۔ یہ نوجوان اچی ہا جیسے طاقتور قبیلے میں سے بھی سب سے زیادہ قابل تھا۔ اور اپنے دور کا واحد اچی ہا تھا جو اپنے شکار کو سراب میں گرفتار کر کے اسکا وقت کا ادراک ہی بدلنے پر قادر تھا۔ اگر آُپ ایک بار اسکے طلسم میں گرفتار ہوگئے تو آپ کو لگے کا آپ پر تین دن بیت گئے جب کی اصل میں صرف چند ساعتیں ہی گزری ہوں گی۔ اسکا مظاہرہ اس نے ہٹے کٹے کاکاجی المعروف ہاتاکے کاکاشی پر کیا۔ کاکاشی اسکے طلسم میں آ گیا اور پھر وہاں پر وہ لگاتار تین دن کاکاشی کو خیجر کی نوک سے کچوکے لگاتا رہا۔ جب کہ اصلی دنیا میں صرف چند سیکنڈ ہی گزرے تھے۔ جب سراب کی اس دنیا سے کاکاشی لکلا تو درد کی شدت سے بےہوش ہو گیا اور ایک مہینہ ہسمتال میں رہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نوجوان کا نام تھا، اچی ہا اتاچی۔ جس نے ایک رات میں اپنے پورے قبیلے کا صفایا کر دیا۔ سوائے اپپنے چھوٹے بھائی کے۔
میں تو کہتا ہوں آپ بھی کاکاشی کی طرح اپنی ایک آنکھ میں شارنگن کا ٹرانسپلانٹ بھی کروا لیں، میں نے بھی کروایا ہے۔ کیونکہ اس قتل عام کے بعد اچی ہا کی شہرہ آفاق آنکھ اب بلیک مارکیٹ میں سستے داموں دستیاب ہے۔ نیچے کی تصویر میری ایک آنکھ میں شارنگن کے ٹرانسپلانٹ کے بعد کی ہے ۔ ہی ہی













