آنکھیں ۔۔۔ اچی ہا نو دوریوکھ۔۔

اب اگر آپ نارتو نہیں دیکھتے تو پھر آپکو آجکے مراسلے کی کوئی سمجھ نہیں آئے گی ۔۔۔۔

بھلا اچی ہا قبیلے سے پیاری آنکھیں اور کس قبائیلی کی ہو سکتی ہیں ۔۔ کوئی نادان جو ایک بار ان آنکھوں میں‌ جھانکنے کی غلطی کر لے، تو ان کے دھوکے میں ایسا گرفتار ہو کہ جان دیتے ہی بنے ۔ ہاں جی، آئے تھے بہت لوگ آئے، بڑے بڑے طرم خاں آئے، مگر کسی سے ان آنکھوں کے طلسم کا توڑ نہ ہو سکا۔

حسن جس کے پاس ہو، غرور تو آہی جاتا ہے۔ اسی طرح اچی ہا قبیلے کے شنوبی، پوری دنیا میں سب سے مغرور قوم میں شمار ہوتے ہیں۔۔ اور ان کا غرور ایسا بے جا بھی نہیں، کیا ڈڈو مینڈک ،کیا شیش ناگ ۔ دنیا جن سے ڈرتی تھی ، اچی ہا قوم کا ایک کل کا بچہ آتا ہے ایک نظر مارتا ہے اور سارے ڈھیر ہو جاتے ہیں ۔

اچی ہا قبیلے کی ان شہرہ آفاق آنکھوں کو شارنگن کہتے ہیں ۔ شارنگن کی اصل طاقت اپنے مد مقابل کے دماغ پر قابو پانے اور اسکی پانچوں حسیات پر قابو پالینے میں مضمر ہے۔ پھر آپکا شکار صرف وہی دیکھتا ہے جو آپ اسے دکھانا چاہتے ہیں ، وہی محسوس کرتا ہے جو آپ اسے محسوس کروانا چاہتے ہیں، درد، غم ، خوف ۔۔ جو بھی۔ غرض کہ آپکا شکار دھوکے اور سراب کی ایک دنیا میں مقید ہے جس کے زمان و مکان پر آپکو مکمل آختیار ہے۔ اگرچہ وقت پر مکمل اختیار زبردست قابلیت مانگتا ہے جو ابھی تک اچی ہا جیسے زیریک قبیلے میں بھی صرف معدودے چند کو ہی نصیب ہوئی ہے۔

مگر شارنگن کی طاقت صرف سراب نمائی تک محدود نہیں۔ یہ آنکھیں کسی چیز کو حرکت کرتے دیکھتی ہیں تو اس حرکت پزیر جسم کی منزل ان پر آشکارا ہو جاتی ہے۔ کہ یہ کوا اس سمت میں اس رفتار سے جا رہا ہے ،تو وہ اندازہ کر لیں گے کہ اتنے سیکنڈ بعد کوا کہاں موجود ہو گا ۔ اسلیے اچی ہا کا نشانہ کبھی چوک نہیں جاتا۔ اور کوئی جتنا بھی تیز ہو ان کی نظر سے بچ کر نہیں جا سکتا ۔ ہاں اگر کوئی غیر معمولی طور پر تیز ہے یا روشنی کی رفتار سے سفر کر رہا ہے تو وہ بہرحال شارنگن کی پہینچ سے مستثنی ہے۔

ایک اور بات جو شارنگن کو عام آنکھوں سے ممتاز کرتی ہے وہ یہ ہے کہ ہم عام طور پر جو بھی دیکھتے ہیں اسکو ہمارا ذہن غیر ضروری معلومات کے خانے میں ڈال دیتا ہے اور چند چیدہ چیدہ مناظر کے علاوہ ہم کچھ یاد نہیں رکھتے سوائے اسکے جو ہم شعوری طور پر یاد رکھنا چاہیں۔ مگر یہ جو اچی ہا ہیں ، انکی آنکھوں کی تاریں سیدھی دماغ کے یاداشت والے خانے میں کھلتی ہیں اور یہ جو کچھ بھی ایک بار دیکھ لیتے ہیں ، پھر کبھی نہیں بھولتے ۔ یہ انکی اسی
فوٹو گرافک میموری کا کمال ہے کہ آچی ہا قبیلے پر بننے والی حرکی تصاویر میں آپکو آچی ہا قبیلے میں کہیں بھی کویی شعبدہ باز نظر نہیں آتا کیونکہ ان کی تیز نظروں کے آگے ہاتھ کی سفائی تو چھپے گی نہیں ، اور انکی یاداشت ایسی تیز کہ جو کرتب ایک بار دیکھ لیا وہ ایک لمحے بعد انکو ازبر بھی ہو گیا ۔ اب یہ خود بھی وہی شعبدہ کر کے آپکو دکھا بھی دے گا، تو ایسے قبیلے میں‌ بھلا کسی شعبدہ باز کی کیسے چلے گی ۔

تو دیکھ لیا آپ نے اچی ہا دا ہونتو نو چکارا۔۔ یعنی اچی ہا کی اصلی طاقت ۔ لیکن اس خوفناک طاقت کے باوجود سارے کا سارا اچی ہا قبیلہ اپنے ہی ایک نوجوان کے ہاتھوں ذبح ہو گیا۔ یعنی میں سیر کر کے آیا شام کو باغ سے، اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے۔ تت تت تت ۔۔۔ یہ نوجوان اچی ہا جیسے طاقتور قبیلے میں سے بھی سب سے زیادہ قابل تھا۔ اور اپنے دور کا واحد اچی ہا تھا جو اپنے شکار کو سراب میں گرفتار کر کے اسکا وقت کا ادراک ہی بدلنے پر قادر تھا۔ اگر آُپ ایک بار اسکے طلسم میں گرفتار ہوگئے تو آپ کو لگے کا آپ پر تین دن بیت گئے جب کی اصل میں صرف چند ساعتیں ہی گزری ہوں گی۔ اسکا مظاہرہ اس نے ہٹے کٹے کاکاجی المعروف ہاتاکے کاکاشی پر کیا۔ کاکاشی اسکے طلسم میں آ گیا اور پھر وہاں پر وہ لگاتار تین دن کاکاشی کو خیجر کی نوک سے کچوکے لگاتا رہا۔ جب کہ اصلی دنیا میں صرف چند سیکنڈ ہی گزرے تھے۔ جب سراب کی اس دنیا سے کاکاشی لکلا تو درد کی شدت سے بےہوش ہو گیا اور ایک مہینہ ہسمتال میں رہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نوجوان کا نام تھا، اچی ہا اتاچی۔ جس نے ایک رات میں اپنے پورے قبیلے کا صفایا کر دیا۔ سوائے اپپنے چھوٹے بھائی کے۔

میں تو کہتا ہوں آپ بھی کاکاشی کی طرح اپنی ایک آنکھ میں شارنگن کا ٹرانسپلانٹ بھی کروا لیں، میں نے بھی کروایا ہے۔ کیونکہ اس قتل عام کے بعد اچی ہا کی شہرہ آفاق آنکھ اب بلیک مارکیٹ میں سستے داموں دستیاب ہے۔ نیچے کی تصویر میری ایک آنکھ میں شارنگن کے ٹرانسپلانٹ کے بعد کی ہے ۔ ہی ہی

قاضی صاحب کی حکمت

ہمارے ایک تھے قاری صاحب، قاری شمس الدین -رح-

انہوں نے ہم کو سنائی ایک کہانی۔۔۔۔۔۔

اس کہانی میں‌ تھا ایک بادشاہ ۔۔۔۔۔

پر اس کہانی کا ہیرو وہ بادشاہ نہیں تھا ۔۔۔۔۔

ہیرو تھے، بادشاہ سلامت کے قاضی صاحب ۔۔۔۔

قاضی صاحب کی ‘ فرمایا ہمارے قاری صاحب نے ‘ ایک عادت تھی ، کہ کوئی بھی واقعہ ہوتا، قاضی کا اس پر ہمیشہ ایک ہی تبصرہ ہوتا ۔۔ ” اس میں بھی ضرور کوئی نہ کوئی حکمت ہو گی “۔

اب ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ بادشاہ سلامت نے ضد پکڑ لی کہ نہیں جی’ اب سے ہر سیچر ڈے ناٰٰئٹ کو وہ خود بریانی بنایا کریں گے۔۔۔۔
ملکہ نے سنا تو سمجھی شائد بادشے کو اسکی بنائی بریانی اچھی نہیں لگتی ، اور منہ پھلا کے اپنے میکے مملکت خراسان چلی گئی۔۔۔۔

اب بادشاہ رہ گیا اکیلا۔تو وہ اکیلا بریانی کیسے بناتا ۔۔۔۔۔۔

بادشے نے شاہی ذہن چلایا اور قاضی صاحب کے ساتھ بریانی بنانے کا پروگرام بنا لیا ۔قاضی صاحب سیدھے سادھے آدمی تھے ‘ مان گئے۔۔۔۔۔

اب ہوا یوں کہ، بریانی کیلے بلیلر-ایک قسم کی مرغی-کاٹتے ہوئے، ٹوکے تھلے بادشے کی انگلی بھی آ گئی ۔۔اب ٹوکا تو اندھا ہوتا ہے’ سو انگلی کٹ گئی۔بادشاہ نے چیکاں مار کے آسمان سر پہ اٹھا لیا، پر قاضی صاحب داڑھی پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے بولے ” اس میں بھی ضرور کوئی نہ کوئی حکمت ہو گی ”

راوی کہتا ہے، بادشاہ نے پٹی بعد میں کروائی اور قاضی کو قید خانے پہلے بجھوایا ۔۔۔۔

اس واقعے کو گزر گئے کئی مہینے ۔۔۔۔۔

اب ایک مرتبہ ‘بادشاہ جی گئے شکار کھیلنے ۔۔دگڑ دگڑ ، دگڑ دگڑ گھوڑا دوراتے ہوئے بادشاہ سلامت اپنے سپاہیوں سے علیحدہ ہو گئے اور پہنچ گئے جنگل کے سب سے گھنے علاقے میں۔۔

ادھر آباد تھا ایک چینی نژاد آدم خور جنگلی قبیلہ ” تھنگ چی” ۔انہوں نے تو پکڑ لیا بادشے کو ، اور ڈالا شور ۔۔۔یہ دل مانگے مور۔۔۔
اب جب وہ اس کو گرم تیل میں فرائی کرنے لگے ‘ تو ان کے سب سے بڑے پادری نے دیکھا کہ بادشے کی انگلی کٹی ہوئی ہے ۔۔انکے مروجہ قوانین کے مطابق گوشت صرف اسی انسان کا حلال تھا جس کے جسم میں کوئی نقص نہ ہو ۔۔ اب وہ تو تھے جنگلی۔ ان کو نہیں آتی ہیرا پھیری ۔ انہوں نے بادشے کو دیا چھوڑ۔ اب باشے کو قاضی صاحب کی وہ بات یاد آئی کہ ” اس میں بھی ضرور کوئی نہ کوئی حکمت ہو گی “۔

تو بادشے نے محل واپس پہنچتے ہی عزت و اکرام کےساتھ قاضی صاحب کو رہا کیا اور ان کو ترقی دے کے وزیر اعظم کا عہدہ عنایت فرمایا ۔۔

تو نتیجہ اس کا نکلا کہ ۔۔۔۔ کیسے کہوں ۔۔۔۔۔۔ قدرت کے کارخانے میں کچھ بھی برا نہیں ہے ۔ جو بھی ہوتا ہے ، اس میں کوئی نہ کوئی حکمت ہوتی ہے اللہ کی۔۔۔ ہم ایویں ٹنشن لیتے رہتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

چائے’ سگریٹ اور پالک

ہم دونوں کمرے میں بیٹھے ہوئے تھے ۔ پتہ نہیں کیوں بیٹھے تھے۔ نہ مجھے یاد تھا نہ اسے۔ میں نے با آواز بلند، اسکے سامنے پچھلے 10 منٹ کے دوران گزرنے والے واقعات دھرانے کی کوشش کی کہ شاید یاد آجائے ، مگر اس نے مجھے روک دیا۔ یہ گھسی پٹی دلیل دے کر کہ زیادہ خرچ کرنے سے دماغ کے ختم ہونے کا خدشہ ہے۔ وہ پکا پاکستانی ہے۔ اور اسکا خیال ہے کہ زیادہ سوچنا بابا قائد اور بابا اقبال کا فرض تھا، کیونکہ انہوں نے پاکستان بنانا تھا۔ اب تو بن گیا جو بننا تھا ، اسلیئے ہمارے سوچنے کی کوئی تک نہیں بنتی۔ ہم نے کونسا پاکستان بنانا ہے۔ مگر میں نے سوچا آج اس سے بحث کروں گا کہ وہ ایسا کیوں سوچتا ہے۔ میں نے بات شروع کی۔ ہماری قوم کی ترقی رکی اسی وجہ سے ہے کہ ہم سوچتے نہیں۔

وہ ہولے سے مسکرایا اور پھر سگریٹ جلایا۔ ایک ابتدائی کش لیا اور پھر سانس کے ساتھ دھواں خارج کرتے ہوئے بولا : بھائی صاحب ! یہ نہ سوچنے کی وجہ سے نہیں بلکہ نہ کرنے کی وجہ سے ہے۔ بلکہ میں تو کہوں گا زیادہ سوچنے کی وجہ سے ہے۔
وہ کیسے ؟ میں نے حیرانی سے پوچھا۔

تو مجھے بتا کیا سوچنے میں طاقت صرف نہیں ہوتی، خون نہیں جلتا۔تو اگر یہی انرجی سوچنے کی بجائے کچھ کرنے میں لگا دی جائے تو کیا اس میں زیادہ فایدہ نہیں۔ جب بھی تم معاشرے میں کوئی برائی دیکھتے ہو ، تو گھر واپس آ کر سوچنے میں لگ جاتے ہو، پھر سوچ سوچ کہ تھک جاتے ہو تو سو جاتے ہو اور سمجھتے ہو کہ فرض ادا ہو گیا، صبح اٹھتے ہو اور دنیا پھر اسی ڈگر پر چل رہی ہوتی ہے۔ “وہ بولتا رہا”۔ تم سوچنے والے لوگ بزدل ہوتے ہو، اگر اسی وقت ،کچھ سوچے سمجھے بغیر اگلے کے منہ پر جھانپڑ لگاو تو اگلی بار وہ کوئی غلط حرکت کرنے سے پہلے 3 بار سوچے گا۔ ” یہ کہ کر اس نے سگریٹ کی فالتو راکھ سامنے پڑی پلیٹ میں گرا دی۔ میں چپ ۔

اب کمرے میں خاموشی تھی اور میں اسکی بات پر غور کر رہا تھا ، جو اتنی غلط بھی نہیں تھی۔میں خاموش بیٹھا اس شخص کی جانب دیکھ رہا تھا جس نے آج میرے کردار کی کمزوری میرے سامنے کھول کر رکھ دی تھئ۔ میرے دوست بھی اب تک سگریٹ پی چکا تھا اور اپنے فلسفے کی فتح کے نشے میں مخمور اس کا ہاتھ سگریٹ بجھانے کی غرض سے پھر اس پلیٹ کی جانب بڑھا۔ میں نے غور سے دیکھا تو معلوم پڑا کہ اس میں شاید کل کا ادھ کھایا سالن پڑا ہوا ہے اور سالن کے اوپر لپٹن کا استعمال شدہ ٹی بیگ، جو غالبا ساتھ پڑے کپ میں چائے بنا چکنے کے بعد میرے دوست نے پلیٹ میں ہی رکھ دیا تھا۔ اسی اثنا میں اس نے’ میرا قیاس تو یہی کہتا ہے کہ بغیر کچھ سوچے سمجھے’ سگریٹ کا جلتا تمباکو اس ٹی بیگ پر داغ دیا۔ اس ٹی بیگ میں شاید کچھ نمی باقی تھی۔ ٹی بیگ نے شڑل کی آواز کے ساتھ ہلکا سا احتجاج کیا اور پھر کمرے کی فضا ،غالبا پالک، چائے اور تمباکو کی ملی جلی خوشبو سے معطر ہوگئی۔ اسکے ساتھ ہی میرے دوست کے تیور بدلے اور اس نے نہایت بے تکلفی سے اسی پلیٹ میں قے کر دی ۔

میرا بھی دل خراب ہونے کو تھا، میں‌بھاگ کر باہر آ گیا۔ اب مجھ پر یہ عقدہ کھلا کہ نہ تو صرف سوچنا اچھا ، جو میں کرتا رہا ہوں اور سمجھتا تھا کہ بس معاشرے کی نکتہ چینی کر کے میں اپنے قومی فرض سے سبکدوش ہو گیا، اور نہ ہی بنا کچھ سوچے سمجھے عمل کرنا ، جیسا کہ میرے دوست نے کچھ لمحوں پہلے میرے سامنے عملہ مظاہرہ کہا۔

بلکہ اپنی سوچ کا استعمال کرتے ہوئے، بہتر لائحہ عمل کا چناو کرنا اور پھر اس پر نیک نیتی سے عمل پیرا ہونے میں ہی کامیابی ہے۔

۔

بزرگ بلاگر

آج اتنی چھٹیوں کے بعد جب میں‌ یہ سطور لکھ رہا ہوں ، تو بے اختیار اپنے آپ کو ایک سینئر بلاگر محسوس کر رہا ہوں۔ اب اگر کوئی پوچھے کہ میاں ، 5 مہینے ہوئے تم کو بلاگنگ کرتے۔ اس میں سے بھی صفحہ بلاگنگ سے دو ڈھائی مہینے کی غیر حاضری، تو یہ خمار بزرگی چہ معنی ؟

تو سنو کاکا، یہ گردش اوقات کے لطیف مسایل تو نہ دانی۔

پھر پوچھنے والا پوچھے کہ اعلی حضرت، ابھی اتنے بلاگر ہیں جو سال ڈیڑھ سال سے بلاگنگ کر رہے ہیں ، انکی موجودگی میں آپ اپنے آپ کو کیسے سینئر بلاگر کہہ سکتے ہیں ۔

تو سنو کاکا، وہ تو ابھی تک بلاگنگ کر رہے ہیں ، یعنی صیغہ حال جاری ”پریزنٹ کنٹینوئس ٹینس“ کی حدود میں آتے ہیں ، ہمارا بلاگ تو اتنے عرصے سے ویران پڑا ہے کہ کوئی پوچھے ، قبلہ آپ بلاگنگ کرتے ہیں ،تو ہم کہیں گے، کیا مطلب بلاگنگ کرتے ہیں، بھئی ہم تو بلاگنگ کر چکے ہیں یا کرتے رہے ہیں۔ جو صیغہ ماضی مکمل یعنی ”پاسٹ پرفیکٹ ٹینس“ ہے۔ تو آپ ہماری سینیارٹی کو وقت کی حدود و قیود سے پاک رکھیں اور گرائمر کے مروجہ اصول و ضوابط کے مطابق دیکھیں تو ہم کیسے نہیں ہیں بزرگ بلاگر بابا بنگالی۔

تو سب جو نئیر بلاگروں کو بابا جی کا سلام پہنچے۔

اچھا جی قصہ یہ ہے کہ بہت چھٹیاں ہو گئی تھیں، کوئی پوسٹ نہیں کی کیونکہ نیٹ نہیں ہے ۔ نیٹ کیفے توآتا رہا ہوں مگر اب بندہ ان دو گھنٹوں‌میں گیم کھیلے یا بلاگنگ کرے۔ اب میں ‌پھرایک لمبی چھٹی پر جا رہا ہوں ۔ مسئلہ اس بار ہے پڑھائی کا، کمرے میں کمپیوتر اور نیٹ ہو تو کس کافر کا دل چاہے گا کتاب کھولنے کو۔ اب کے آخری سال کی آمد آمد ہے تو سوچا کہ اب تو کچھ پڑھ لینا چاہیے، یہی وقت ہے۔ سو کمپوٹر بیچنے کی ٹھانی جو بکا نہیں ، حالانکہ میں نے اتنا پیارا اشتہار بنایا تھا، ابھی نیٹ کیفے میں‌ ہوں، ابھی نہیں ہے میرے پاس ، ورنہ یہاں بھی لگا دیتا ۔ خیر کمپوٹر تو اب میرے پاس ہی ہے مگر نیٹ نہیں لگوایا ۔ اور اب اللہ کے کرم سے اپنے آپ کو بڑا ویلا ویلا محسوس کر رہا ہوں، پہلے تو کتاب کھولنے کا بھی وقت نہیں بچتا تھا، اب پڑہائی بھی ہو رہی ہے اور وقت بھی کافی بچ جاتا ہے ، امید ہے ایسے ہی چلتا رہا تو ایک روشن مستقبل میرا انتطار کر رہا ہو گا۔ آپ سے دعا کی درخواست ہے ۔

گل تے ساری منافع دی ایے۔۔۔۔

لوگ تو مرتے ہیں ، روز مرتے ہیں ، ہر چوبیس گھنٹوں میں 146000 لوگ مرتے ہیں ۔

میں اخباروں میں بھی خبریں پڑھتا ہوں‌، قتل کی ‘ اغوا کی، تو بس ایک سرسری سی نظر مار کر گزر جاتا ہوں ، بلکہ پچھلے دنوں‌ تو سوچ رہا تھا، بڑے دن ہوئے پاکستان میں‌کوئی خودکش دہماکہ نہیں ہوا۔ مگر اتنی جانوں کے ضیاع پر بھی اب افسوس نہیں‌ہوتا ۔ پہلے شاید ہوتا ہو، مگر اب تو عادت ہو گئی ہے، ایک بات۔

صحیح کہا تھا کسی نے : “ایک آدمی کی موت سانحہ ہے، اور سینکڑون کی صرف شماریات ”

دوسری بات اب تو عرصہ ہوا کہ مجھے لگا میں بے حس ہو گیا ہوں ۔لوگوں کو تکلیف میں مبتلا دیکھتا ہوں‌-تو کہتا ہوں‌میرا کیا لینا دینا ۔ کسی پہ مصیبت آئی تو یہ سوچ کر دل کو تسلی دے دی کہ اس کے اپنے کیے کا وبال آیا ہے۔ کوئی مر گیا تو سوچ لیا کہ وقت آگیا تھا، خدائی مشیت کے سامنے دم مارنے کی مجال کسے ۔ میں اغوا ہوئے لوگوں کو کم ہمت خیال کرتا ہوں ، بندے میں ہمت ہو تو کہاں سے نہیں بھاگ سکتا۔ اور مرنے والوں کو انکی قسمت کا لکھا۔

مگر آج دل اداس ہے ۔

آج پھر کوئی مر گیا ہے ۔ اور مرنے والا ہے32 سالہ محمد سعد خان، چار بچوں کا باپ ۔

مگر افسوس اس بات کا ہے کہ اب یہ راز عیاں ہو گیا کہ سکے کی چھنک کی آواز مظلوموں کے بین پر بھاری ہے۔
صدیاں گزر گئیں مگر اب بھی جس کی لاٹھی اسکی بھینس ، ضعیفی اب بھی جرم ہی ہے۔ نیچے دیے گئے ربطوں میں اس کہانی کو کور کیا گیا ہے۔

آرپکس کے مطابق :

پاکستانیت کے مطابق:

ٹیتھ ماسٹیرو کے مطابق :

ہمارے معاشرے میں انسانی جان کی قیمت تو طالبان خودکش دھماکوں اور ڈرون حملوں کے بعد کوئی نہیں رہ گئی تھی اب جو رہی سہی عزت زندگی کیساتھ منسوب تھی، وہ بھی گئی۔ مگر افسوس زیادہ مجھے اب ایک عام آدمی کی بے بسی اور میڈیا واوں کی بےحسی پہ ہو رہا ہے ، پیسے والے کا جو جی چاہے کریں۔ اور ہم عوام، روئں مریں ۔ اس معاملے میں اوپر دیے گئے روابط پر آپ میڈیا کے کردار کے بارے میں‌پڑھیں‌گے تو آپکو بھی اندازہ ہوگا کہ، پیسہ سب کا باپ ہے، پیسہ سب پر بازی لے گیا۔ ادھر بندہ مر گیا ہے اور میڈیا اتنا چپ کیوں ہے۔ اب تو کسی نے ہاتھ نہین بندھ رکھے میڈیا کے، اب میڈیا کیوں نہیں بولتا۔ کیونکہ ان کا منافع مرتا ہے ۔ جس کمپنی سے انکو اشتہار ملتے ہیں ، اب انکے خلاف تو خبر نہیں‌شایع کر سکتے۔

ٹیتھ ماسٹیرو پر عمیر نے اس تبصرے میں ایک اچھا سوال اٹھایا کہ ہم پر حکومت کون کر رہا ہے، یہ ملٹی نیشنل کمپنیاں یا سیاست دان ؟ سیاستدان کے خلاف تو خبر شائع کر دیتے ہیں ، یونی لیور کے خلاف کیوں‌نہیں ؟

آپ ٹیتھ ماسٹیرو والی کہانی میں پڑھ سکتے ہیں کہ آرپکس’ جہاں‌ پر یہ خبر سب سے پہلے شایع ہوئی ، کو ان کی ویب ہوسٹنگ کمپنی کی طرف سے ان کا تمام ڈیٹا ڈیلیٹ کرنے کی دہمکی دی گئی، جس کے بعد انہوں نے اپنی ویب سائٹ ایک دوسرے ہوسٹ پر منتقل کی ۔ اسکے علاوہ ٹیتھ ماسٹیرو کے مطابق کسی نیوز چینل نے اس خبر کو کوئی خاص کوریج نہیں دی ۔ اسکی خبر پہلے ڈان کے اخبار پر تھی، اب ایک ہفتہ گزر جانے کے بعد کہیں جیو پر یونی لیور اور ماینڈ شیر والوں‌نے معافی مانگی ہے۔

فیض نے صھیح کہا تھا ‌:
بنے ہیں اہل ہوس مدعی بھی منصف بھی
کسے وکیل کریں کس سے منصفی چاہیں ۔

پس نوشت :سب قاریئن سے گزارش ہے کہ اب آپ مراسلہ پڑھ چکے ہیں تواپنے قیمتی وقت میں سے 2 منٹ نکالیں اور مرحوم کے حق میں دعائے مغفرت پڑھ لیں ۔

اپ ڈیٹ : پاک سیٹائر پر ایک بہت اچھی تجویز پیش کی گئی ہے کہ ہم پاکستانی بلاگر اپنے اپنے بلاگ کے ذریعے ‘ انٹرنیٹ کا استعمال کرتے ہوئےان ملٹی نیشنل کمپنیوں پر دباو ڈالیں؛کیونکہ ایلتڑانک میڈیا تو اس سلسلے میں خاموش ہے،اور ایک ہفتے بعد اب کہیں‌جا کر پرنٹ میڈیا پر یہ خبر نظر آئی ہے۔



پاک سیٹایر سے ایک اقتباس

“مرحوم کے خاندان کیساتھ یکجہتی کے اظہار کی یہ ہماری حقیر سی کوشش ہے ۔ ہم صرف یہ چاہتے ہیںً کہ یونی لیور اور مائنڈ شیر اس واقعے کی پوری ذمہداری لیں اور مرحوم کے اہل خانہ کی’ صرف قانونی طور پر نہیں بلکہ معاشرتی طور پر بھی اعانت کریں ۔اگر ان کمپنیوں‌کو پاکستان میں رہنا ہے تو انکو کاروباری چول بننے کی بجائے اپنی معاشرتی ذمہ داری کو نبھانا سیکھنا ہو گا “

اس معاملے میں پاکستانی انگریزی بلاگؤں کا کام قابل تعریف ہے۔ آرپکس نے اس خبر کو تب کوریج دی جب پرنٹ اور الیکڑانک میڈیا والوں نے مجرمانہ خاموشی اپنائے رکھی۔ اور اس خبر کو اپنی ویب سایٹ کے بند کر دینے کی دھمکیوں پر بھی نہیں روکا، پھر ٹیتھ ماسٹیرو نے اس خبر کو کوریج دینا شروع کی اور اس کام کو بطریق احسن نبھایا پھر پرسوں پاکستانیت نے اس واقعے پر ایک آرٹیکل لکھا اور اب پاک سیٹایر بھی اس جدوجہد میں شامل ہے۔

میری رائے میں‌اب اردو بلاگروں کو بھی سامنے آنا چاہیے اور ہمیں اپنے قارئین تک اس واقعے پہنچانا چاہیے اور مرحوم کے خاندان کیساتھ اظہار یکجہتی کرنا چاہیے۔ اگر ہم وقت یا معلومات کی کمی کی وجہ سے پوسٹ نہیں کر سکتے تو کم از کم اس معاملے کو اجاگر کرنے کیلے پاک سیٹائر نے جو تصویر جاری کی ہے وہ اپنے بلاگ پر لگا کر ان کو پاکستانیت ٹیتھ ماسٹیرو ، پاک سیٹائر یا آرپکس کو لنک تو کر سکتے ہیں ۔

شکریہ

ہفتہ بلاگستان – 7سیاسی تصاویر ”حصہ دوم‘

تو جی منظرنامہ کے مطابق آج ہے ، یوم فوٹوگرافی۔ اب میرے پاس اپنی کھینچی ہوئی تصاویر تو نہیں ہیں تقسیم کرنے لیے ‘ البتہ تصویرمحلکو کام میں لاتے ہوئے کچھ تصاویر ایڈٹ کی ہیں۔ اس سے پہلے ایک لاٹ کی آمدیہاں ہوئی تھی۔ آج کی پوسٹ اس سلسلے کی ہی ایک کڑی ہے ۔

آج کی ان بولتی تصویروں کے ستارے وہی پرانے ، سیاست دان اور ڈاکٹر غفران۔

اس بار کے سیاست دانوں میں شروع ہم زرداری صاحب سے ہی کریں گے۔ کہ اس مملکت خداد کے صدر ہوتے ہیں اور اس لحاظ سے ہم پاکستانیوں کی شناخت یا قومی امیج کا ان سے گہرا تعلق ہے۔ باقی جہاں‌میں تو ہم جو بدنام ہیں سو ہیں ، اب کی بار تو چینی بھی نالاں ہوگئے ہمارے صدر صاحب سے۔ ایک اڑتی اڑتی سنی ہے کہ چین
سے جن معاشی تعاون کے منصوبوں پر اتفاق ہوا ہے، زرداری صاحب ان کی ٹھیکیدار کمپینیوں سے کک بیک یا رشوت کا مطالبہ کر رہے ہیں، تصدیق اس خبر کی بہرحال نہین کی جاسکتی، مگر جو روز روشن کی طرح‌عیاں ہے؛ وہ ہے چینیوں کا بدلتا رویہ۔

اب کی بار جب صدر صاب چین پہنچے تو چینی حکومت کی اعلی قیادت کا کوئی فرد زرداری صاحب کے استقبال کو نہیں پہنچا۔ ان کی آمد اور استقبال کی تصویر 22 اگست کے روزنامہ ایکسپریس پر دیکھی جا سکتی ہے۔

اس کی خبر جب چین مٰیں موجود ڈاکٹر غفران کو ہوئی تو آپ دوڑے دوڑے حلیہ درست کیے بنا ، زرداری صاحب سے ملنے پہنچے ۔ اس ملاقات کا احوال نیچے ملاحظہ کریں :

پچھلی ایک پوسٹ میں بدتمیز نے اس تبصرے میں شہزادہ بلاول کو کوئی عقل مت دینے کی بات کی تھی۔ سو اب کی بار کے دوسرے سٹوڈنٹ کم سیاستدان ہیں بلاول بھٹو زرداری۔

ڈاکٹر غفران کو بلاول پر تو بہت ہی غصہ ہے۔ آپ کے خیال میں یہ پشت در پشت کے جاگیردار اور صنعتکار و سیاستدان ، اس ملک کا سرطان ہیں ۔ جن کی نسلیں حرام کھا کھا کر پلی ہوں‌اور جن کا پیسہ عام آدمی کے استحصال کی بہ دولت ہو تو ایسے بے کردار لوگوں سے خیر کی توقع عبث ہے ۔

ڈاکٹر غفران کا کہنا ہے کہ ایک شخص اپنی کسی قابلیت کی بہ بجائے صرف اپنے حسب نسب کے بل پر لیڈر کہلایا جائے اور اپنی قسمت کی چابی اسکے ہاتھ میں‌دے دی جائے، یہ سوچ کر ہی مجھے الٹی آنے لگ پڑتی ہے ۔

اب اس سلسلے کے تیسرے اور آخری سیاستدان، ہیں ہم سب کے جانے مانے، پھلے پغانے قاید بھائی الطاف حسین ۔ اب جب میں نیٹ پر ان کی تصاویر تلاشنے نکلا تو تصاویر کیساتھ کچھ ویڈیوز بھی نظر پڑیں۔ جن کو دیکھنے کے بعد مجھے لگا کہ اس جوکر کو ایڈیٹ کرنے کی کوئی ضرورت ہی نہیں، کہ آپ اپنا تعارف ہوا قاید کی ہے :پ ۔ وہ وہڈیوز آپ بھی دیکھیے اور سر دھنئے ۔

چورن والے بھائی:
altaf churan

بھائی کا سلام ، پنجابیوں‌کے نام‌:

salaam

پروفیسر الطاف حسین تاریخی‌:

history

پس نوشت : یہ تصاویربنانے سے پہلے میرے دل میں‌خیال آیا، کہ کیسا لگے گا اگر ایک آدمی دوسرے آدمی کی بے عزتی مٰں تصاویر بنانا شروع کر دے ۔ باقیوں کا تو افسوس نہیں کیونکہ وہ تو پرانے اور ثابت سدہ پاپی ہیں ، مگر بلاول کے بارے خیال آیا کہ یہ تو ابھی بچہ ہے اس کو ابھی بہت کچھ ثابت کرنا ہے۔تو مٰیں نے سوچا کہ بس ، اب اس طرح کی یہ میری آخری کاوش ہے اسکے بعد ایسی ایڈیٹنگ کر کے کسی پر کیچڑ نہیں‌اچھالوں گا۔ ؎

پھر سوچا کہ اگر یہ صرف بلاول ہوتا تو میں شائد اسکی بھاری بھنوں اور موٹے منہ کے باوجود اسکا مذاق نہ اڑاتا، مگر اب یہ صاحب بلاول بھٹو زرداری ہیں،قسمت کی ستم ظریفی کہ اب ایک ایسے ملک کی بڑی سیاسی جماعت کے چیرمین بن گئے ہیں جس کے ووٹروں کی اکثریت جاہل ہے، جو آج بھی بھٹو کے نام پر ووٹ دیتے ہیں۔ ایسے عوام جو ان نام نہاد لیڈروں کی جوتی چھونا بھی باعث فخر سمجھتے ہیں اور ان کو اپنے آپ کی تذلیل کاگمان تک نہیں گزرتا اور جن کے دل عقیدت سے اتنے پھرے پڑے ہیں کہ کبھی اہنے قائد سے حساب نہیں مانگتے ۔

تو اگر بلاول بھٹو زرداری صاحب ایک ایسے معاشرے کے لیڈر بننے جا رہے ہیں ، میرے لیڈر بننے جا رہے ہیں ، تو کچھ ثابت کر کے دکھائیں۔ موقع تو ان کو مل چکا ہے ، جو انہوں نے مشرف کو معافکر کے اپنے بڑے پن کا مظاہرہ کیا ہے ۔ بہرحال ، میرا نکتہ اس ساری بحث سے یہ ہے کہ
” یہ پاکستان میرا ملک ہے اور جس کسی سے بھی اس ملک کا مستقبل وابستہ ہے، مجھے اسکے بارے میں رائے رکھنے کا حق ہے اور اس رائے کو تقسیم کرنے کا حق ہے ۔ ”

پس نوشت بھی خاصا طویل ہو گیا اور شاید کچھ احباب کو لگے کہ یہ مراسلہ بلاول میاں‌کی بے عزتی کرنے کیلے لکھا ہے، مگر بس بات سے بات نکلتی گئی اور طویل ہو گئی،

ہفتہ بلاگستان – ٹیگ- سیانے کہتے ہیں۔۔۔

بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ کسی چوپال میں چند لوگوں کی کسی پٹھے سدھے بے فضول سے مسئلے پر گرما گرم اور لا حاصل بحث چل رہی ہوتی ہے ، دلائل دیے جا رہے ہوتے ہیں، گلے کا زور لگا لگا کے لوگوں‌کے گلے بیٹھے ہوتے ہیں ، مگر، لوگ ہیں کہ کسی کی سننے کو تیار ہی نہیں، ہر کوئی اپنی منوانے پہ تلا ہوا ہوتا ہے۔ ایسے میں اچانک کوئی فرد اپ کی رائے پوچھتا ہے ۔اب سب لوگ اپنی اپنی بک بک بند کر کے آپ کی طرف گردن موڑ لیتے ہیں اور آپ ، جو اس سارے ہنگامے سے 3،4 فٹ پرے ایک آرام دہ کرسی پر بیٹھے اس ساری صورتحال کا اپنی باریک آنکھوں‌ سے جایزہ لے رہے ہوتے ہیں‌، ہولے سے زیرلب مسکراتے ہیں’ اس 1 سیکنڈکے دسویں حصے تک ظاہر ہونے والی مسکراہٹ کو کچھ لوگ نوٹ کرتے ہیں اور بھانپ جاتے ہیں کہ یہ بندہ ہمیں ‌بے وقوف سمجھ رہا ہے ، جبکہ اکثر ہنوز آپ کے لب ہلنے کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں ، اور آپ گلا کھنکار کر دو، تین جامع فقروں میں ساری بات سمیٹ دیتے ہیں، مسئلہ حل ہوجاتا ہے، بحث ختم ہوجاتی ہے اور لوگ آپ کی دانائی پر واہ واہ کرت رہ جاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس طرح کے جامع الفاظ جو سالوں کے تجربہ کا نچوڑ ہوتے ہیں ،جو کبھو دوسرے کے سر پر سے گزر جاءیں’ اقوال زریں کہلاتے ہیں۔

مزے کی بات یہ ہے کہ اقوال زریں ارشاد کرنے کیلے آپ کا سپر ذہین ہونا کوئی شرط نہیں، بس حاالات و واقعات پہ ایک گہری نظر ہونی چاہیے اور ان سب واقعات میں سے کوئی ربط، کوئی تک تلاشنے والی سوچ چاہیے۔

تو کیا ہے کہ جیسے اقوال زریں کی ایک دو کتب پر نظر ماری کی ہے تو اندازہ ہوا کہ گاہے گاہے درمے سخنے – مطلب پتہ نہین کیا ہوتا اسکا- ہم بھی کبھی کوئی ایسے بات کہ جاتے ہیں ، جو اگر کسی کتاب میں چھپ جایئں تو ہم بھی دانش ور کہلائے جائیں ۔ اپنے ایسے ہی کچھ اقوال اور ان کا کچھ سیاق و سباق، وضاحت وغیرہ درج ذیل ہے ۔

” کسی وڈے آدمی کے سامنے کمزوری دکھا کے اسکو اور وڈا نئیں کرنا’ او بیبا”

یہ انقلابی سوچ ‘ الفاظ کے ذرا سے رد و بدل کیساتھ کچھ سالوں سے میرے ساتھ ساتھ چل رہی ہے، اور جہاں تک یو سکتا ہے اس پر عمل کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ کیونکہ یہ جو نام نہاد معزز شہری ہوتے ہیں ، ان کی انا کا قد ان کے اپنے قد سے بھی بہت بڑا ہوتا ہے۔ اگر اگلے کے پیروں میں گرو گے ، تو اس سے اسکی انا کو مزید تقویت ملے گی۔ چلو بھئی اگر ظالم کو جسمانی نقصان نہیں پہنچا سکتے تو کم از کم اسکو یہ باور کروا دینا چاہیے کہ اللہ کے بندے دوسرے تیرے باپ کے نوکر نہیں۔ اب اگرچہ غفران کافی بدل گیاہے اور اس میں وہ بات نہیں رہی جو آج سے چند سال پہلے ہوا کرتی تھی، پھر بھی خدا سے دعا ہے کہ موقع اول تو آئے نہ، اور اگر آ پڑے تو ثابت قدم رہے۔

“بےوقوفوں میں سے سب سے زیادہ خطرناک وہ ہے جو سوچتا بہت ہے ۔ “

ایسے بندے کی نا بات کی سمجھ ٓاتی ہے نہ اسکو سمجھایا جا سکتا ہے ۔

اپنی سوچ پہ ممکنات کا دروازہ کھلا رکھو، ہر بات کے پیچھے یا ہر کام کے کرنے کی سو وجوہات ہو سکتی ہیں”

ممکنات پتہ نہیں صحیح لفظ ہے کہ نہیں، بہرحال مراد اس سے یہ ہے کہ کچھ بھی ممکن ہے۔ میں نے ایک کارٹون دیکھے تھے ” اوتار “۔ اس میں ایک کردار “آئرو” کہتا ہے، ” کیپ این اوپن مائینڈ اینڈ این اوپن ھارٹ”۔ یہ اوپن ماینڈ والی بات مجھے بہت اچھی لگی۔ اور یہ سو وجوہات والی بات جو کہی وہ اس لئے کہ عام طور پر مشاہدے میں آتا ہے کہ غلط فہمیاں اس لیے پیدا ہوتی ہیں کہ آدمی اپنی سوچ کا دروازہ تنگ کر کے سوچتا ہے کہ فلاں نے یہ کیا ہے تو صرف اسی وجہ سے کیا ہو گا۔ حتی کہ اس بندے کیساتھ گزارے گئے ماضی کے لمحات سے حاصل تجربات کو بھی نظرانداز کر دیتا ہے۔ اسلیے بہتر یہ ہے کہ دوسرے سے پہلے پوچھ کے کنفرم کر لیا جائے کہ میں نے یہ سنا، یا یہ دیکھا، ہن ذرا وچلی گل تے دسو ! پھر اس کا جواب سن کر رائے قائم کی جائے۔

اب باری ہے ٹیگ کرنے کی ۔۔۔۔۔۔ یپی ی ی ی ی ی ۔۔۔۔
تو اب میں کس کو ٹیگ کروں ۔۔۔۔۔۔۔۔

آج تو آخری تاریخ ہے ویسے بھی ٹیگ کرنے کی ۔۔۔۔۔۔ خیر ٹیگ کر چھوڑتا ہوں ،جس کویہ ٹیگ قبول ہو۔ تو یہان لنک ہے اس تصویر کا جو مٰیں نے اوپر لگائی ہے ، اس کو اپنے بلاگ پر لگائں اور اپنے خود کے کہے ہوئے چند اقوال زریں کے بارے میں ایک مراسلہ لکھیں

تصویر کا ربط : http://i69.photobucket.com/albums/i65/elite-falcon07/baby-genius-psa.jpg

بہرحال جن خوش نصیبوں کو مٰن نے ٹیگ کیا ہے ان کے نام یہ ہیں :
جعفر
ڈفر
سعدیہ سحر
عمر احمد بنگش
ماورا
ڈاکٹر منیر عباسی
ناذیہ
شکاری
تانیہ رحمان
کنفیوز کامی

ہفتئہ بلاگستان 5 – ہاہاہاہاہا، ہفتہ کے سپیلنگ غلط ہیں ۔ ہی ہی ہی ۔۔۔

ہاہاہاہاہاہاہاہاہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہیہیہیہیہیہیہیہی۔۔۔۔۔۔۔۔
ہوہوہوہوہوہوہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج عرصے بعد اردو بلاگوں کا دورہ کیا تونظر پڑا ہر جگہ ہفتیہ بلاگستان منایا جا رہا ہے۔ بلاگنگ سے طویل عرصے تک ّغیرحاضری کی بدولت یہ چیز میرے لیے نئی تھی ۔ ہاہاہاہاہاہاہاہا۔ میرے لیے نئی تھی، ہوہوہوہوہوہو۔۔۔۔ہاہ۔

ہمممم۔۔۔ تو میں کہ رہا تھا کہ ، ہیں۔۔ میں کیا کہ رہا تھا ؟ ۔۔۔ ابے اتنی جلدی بھول گیا کیا کہ رہا تھا۔ ہاہہاہاہاہاہاہاہاہاہہاہا۔
اسٹوپڈ ۔ اہہاہاہاہاہاہاہاہا

ہاں ، تو میجھے پتا نہیں تھا کہ یہ ہفتیہ بلاگستان کیا بلا ہے۔ منظرنامہ پر پہنچا تو سمجھ آیئ ۔ ہیہیہیہیہیہیہیہیہیہی۔

اچھا وہ تو جو ہے سو ہے۔ میں اتنی دیر بعد کیوں آیا ہوں ۔۔۔۔ کیونکہ ہم کو جامعہ سے چھٹیان ہو گئی تھیں اور مصروفیت بڑھ گئی تھی، اب چھٹیاں ختم ہونے کو ہیں اور ہم پھر سے بلاگ کی طرف متوجہ ہو گئے ہیں ۔ ہی ہی ہی ہی

اچھا تو آج جو ہے ہفتئہ بلاگستان -5 ہے، یعنی آج کوئی مزاحیہ تحریر لکھنی ہے، سو یہ ہے میری تحریر برائے ہفتیہ بلاگستان ۔ بوہوہاہاہاہہاہاہاہہا

دانائی

؂یہ تو نے کیا غضب کیا مجھ کو بھی فاش کر دیا
میں ہی تو ایک راز تھا سینئہ کاینات میں

کوئی مجھے اس کا مطلب سمجھا دے ؟

یہ بابا اقبال اور اس قبیل کے دوسرے شاعروں کی شاعری پڑھو تو معلوم ہی نہیں‌پڑتا کہ کس دنیا کی باتیں کر رہے ہیں۔ پتہ نہیں کونسی فریکوئنسی پہ انکی نشریات چلتی ہیں’ کہ کیچ ہی نہیں ہوتیں ، سر کے اوپر سے گزر جاتی ہیں ۔

؂نگاہ فقر میں شان سکندری کیا ہے
خراج کی جو گدا ہو وہ قیصری کیا ہے

اب اندازہ ہوا کہ علم اور دانائی علیحدہ علیحدہ چیزیں ہوتی ہیں ۔ علم تو بس علم ہے نا، بے فضول معلومات وغیرہ، اعداد و شمار وغیرہ۔ دانائی کیا ہوتی ہے؟ شاید علم نافع کو دانائی کہیں گے۔ نفع دینے والا علم ۔ پتہ نہیں ۔۔۔

Ktm xd

اس کوڈ کا کیا مطلب ہوتا ہے ؟

یہ ختم شد کی انگریزی ہےؕ یہ علم ہے اور یہ کہنا کہ بھاءی تو اس زبان میں لکھ جو ساروں کو سمجھ آے ‘ یہ داناءی ہے ۔ ہی ہی

اکتائے ہوئے بیٹھے ہیں۔۔۔

نوٹ : آج کا یہ بلاگ چند تصاویر پر مشتمل ہے۔ اگر کسی کے نظریات و احساسات کو اس سےٹھیس پہنیچے تو میں معذرت خواہ ہوں ‘ مگر زیادہ بہتر یہ ہوگا اگر اس پوسٹ کا مواد نا مناسب لگے تو رخصت ہو جائیں۔

یہ جو لفظ سیاست ہے اس کا لفظ شرافت سے تو دور دور تک کا بھی کوئی تعلق نہیں ہے۔ سچ کی سیاست بھلا کیسے سیاست ہوسکتی ہے ۔ سیاست کا تو صرف ایک اصول ہے: مصلحت۔ تو اگر سیاست اتنی گندی مندی چیز ہے اور یہ سیاست دان گندگی کے بد بو دار کٹورے ہیں تو پھر یہ مملکت خداد چل کیسے رہی ہے ؟ ہم م م ۔۔ اچھا سوال ہے۔

تو جی جواب اس کا یہ ہے کہ دعاوں کے علاوہ اس مملکت خداد کو چند ایسے نوجوان میسر ہیں جو خوشنما پھول بن کر شاخ گل پر سجنے کی بجائے کھاد بن کر زمیں میں جذب ہو جاتے ہیں اور پودے کی توانائی کا سبب بنتے ہیں ¹ ۔

یہی وہ گمنام سپاہی ہیں جو وقتا فوقتا قوم کے رہنماوں کو راہ راست کی جانب راغب کرتے ہیں ، مگر سنتا ان کی کوئی کم ہی ہے۔ ایسے ہی ایک مرد مجاہد ڈاکٹر غفران ہیں۔ آپ نام نہاد علوم کے ماہر ہیں اور اس ملک کی چیدہ چیدہ شخصیات سے آپ کے تعلقات اور ان کی آپ سے وابستگی تعارف کی محتاج صرف اس لیے ہے کہ آپ بچپن ہی سے گمنام سرفروشوں کے کارنامے پڑھتے آیے ہیں اور ایک عظیم کام سر انجام دینے کے بعد بھی ایک عام آدمی بن کر رہنے کے تصور کو محسور کن خیال کرتے ہیں۔

ان کا کچھ تصویری ریکارڈ ہمارے ہاتھ لگا ہے جو بے فضول ٹیم صرف تحریکی جذبے کے تحت عوام کو دکھا رہی ہے۔

ہم تاریخی اعتبار سے چلیں گے ، سو پہلے ملاحظہ ہو ،1971 میں دارالعلوم چنگ چو کے دورہ پر آئے ہوئے تب کے وزیراعظم پاکستان محترم مسٹر بھٹو سے ان کی ایک ملاقات کا حال :

Mr Bhutto

مگر بھٹو صاحب نہ مانے اور آگے کے دردناک نتاءج کی تاریخ شاہد ہے۔

فکری اختلافات ایک طرف’ مگر بھٹو خاندان سے آپکے دوستانہ روابط تو ہمیشہ رہے ہیں ۔ محترمہ بے نظیر کے آخری جلسے کے موقع پر آپ وہیں موجود تھے مگر دہماکے سے ذرا پہلے آپ کو بیت الخلا کی حاجت اور آپ سرپٹ گھوڑے پر سوار نکل لیے۔

کاش میں تھوڑی دیر اور رک گیا ہوتا۔۔۔۔۔

کاش میں تھوڑی دیر اور رک گیا ہوتا۔۔۔۔۔

اگر کسی کو شک ہو کہ کسی ایک آدمی کی موجودگی کیا فرق ڈال سکتی ہے تو آپ کی اطلاع کیلئے عرض ہے کہ ڈاکٹر غفران کسرتی جسم کے مالک ہیں اور بچپن سے ہی سکول میں ہمیشہ بلیک بیلٹ پہن کر جاتے تھے۔

زرداری صاحب بھی وقتا فوقتا آپ کی راہنمائی سے مستفیذ ہوتے رہتے ہیں ‘ مگریہ قیاس کیا جاتا ہے کہ آپ زرداری صاحب کو بھٹو خاندان کی روایات کا امین نہیں سمجھتے۔

زرداری صاحب جب یں آئے تو وکلا تحریک کو دبانے کیلئے ڈاکٹر غفران سے مشاورت کرنے بھی آئے مگر آپ نے مرتبے کے لالچ کو ٹھتراتے ہوئے حق کا ساتھ دیا اور بلا آخر جج بحال ہو گئے۔

اسی طرح ایک دفعہ ڈاکٹر غفران ، زرداری اور ایک اور شخسیت جن کا نام صیغئہ راز میں رکھا جائے گا ، ایک امیوزمنٹ پارک گئے۔ اور ادھر بھی زرداری صاحب کی اوٹ پٹانگ حرکتوں کی وجہ سے انہیں لگا کہ شاید صدر زرداری کے جو پاگل ہونے کی خبر شائع ہوئی تھی وہ درست ہے۔ ًمگر اسوقت تو حد ہی ہوگئی جب صدر زرداری نے اردو ادب میں اپنا بدنام زمانہ 10% گھسیڑ دیا۔ آپ اس واقعے کے 2 منٹ بعد ہی خرابی طبیعت کا بہانہ کر کت لوٹ آئے تھے اور پی پی پی کی موجودہ قیادت سے مایوس ہو گئے کہ یہ بھی کوئی بندوں والا کام کر سکتے ہیں ۔

اور کیانی صاحب سے آپکے دوستانہ اور مشورانہ تعلقات تو اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہی۔

چاہے قوم کو درپیش پانی کی قلت کا شدید مسئلہ ہو جس پر تمام ارباب اختیار مجرمانہ خاموشی اختیار کیے بیٹھے ہیں

(بی بی کی فوٹو کی جگہ اپنی تصویر لگانے پر میں قطعا شر مندہ نہیں‌ہوں )

یا کولیڑل ڈیمج کے شکار سینکڑوں پاکستانیوں کا مسئلہ

۔

آپ ہر جگہ اپنی ب-لاگ رائے کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں۔

1: شاید نواب بہادر یار جنگ کی تقریر ہے یہ۔ بچپن میں‌پڑھی تھیں ‘ اب ایک یہ ہی لاین یاد تھی۔